قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَذَانِ وَالسُّنَّةُ فِيهِ (بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَثَوَابِ الْمُؤَذِّنِينَ)

حکم : حسن صحیح

ترجمة الباب:

724 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: آذان کے مسائل اور اس کا طریقہ

 

تمہید کتاب  (

باب: اذان کی فضیلت اور مؤذنوں کاثواب

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

724.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے، وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتی ہے اور (اذان سن کر) نماز کے لئے حاضر ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کے دو نمازوں کے درمیان گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘