Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Regarding The Divine Decree (Qadar))
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
90.
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صرف نیکی ہی عمر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے اور تقدیر کو محض دعا ٹالتی ہے۔ بلا شبہ انسان کو بعض اوقات ایک گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‘‘
تشریح:
(1) یہ روایت بعض محققین کے نزدیک حسن درجے کی ہے جو عندالمحدثین قابل حجت ہوتی ہے، البتہ اس حدیث کا آخری حصہ (وَإِنَّ الرَّجُل...)’’انسان اپنے برے عمل کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے‘‘ کسی معتبر سند سے ثابت نہیں بلکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة، حديث:154، والضعيفة، حديث:179) (2) نیکی کا ثواب جس طرح آخرت میں بلندی درجات اور ابدی نعمتوں کا باعث ہوتا ہے، اسی طرح نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی نعمت، عزت اور مزید نیکی کی توفیق سے نوازتا ہے، اسی طرح برے عمل کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں ملتی ہے، اِلَّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ (3) عمر میں اضافے کے مختلف مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ (ا) یعنی عمر میں برکت ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں میں صرف ہوتی اور ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ (ب) نیکیوں کی توفیق ملتی ہے جس کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچتا رہتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالبـقِيـتُ الصّـلِحـتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ أَمَلًا﴾ (الکھف:46) ’’باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے اچھی ہیں۔‘‘ (ج) فرشتوں کو یا ملک الموت کو اس کی جو عمر معلوم تھی، اس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ فرشتوں کے لحاظ سے اضافہ ہے، اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ یہ شخص فلاں نیکی کرے گا جس کے انعام کے طور پر اس کی عمر میں اس قدر اضافہ کر دیا جائے گا۔ (4) تقدیر بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ جس مصیبت سے انسان ڈرتا ہے، دعا کی برکت سے رک جاتی ہے۔ اور آئی ہوئی مصیبت رفع ہو جاتی ہے۔ جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو دعا کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ سے نجات مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَولَا أَنَّهُ كانَ مِنَ المُسَبِّحينَ - لَلَبِثَ فى بَطنِهِ إِلى يَومِ يُبعَثونَ﴾(الصفت: 143،144)’’اگر وہ (اللہ کی) پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہو جاتے، تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس (مچھلی) کے پیٹ ہی میں رہتے۔‘‘ یہاں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تبدیلی فرشتوں کے علم کے مطابق تبدیلی ہے، اللہ کے علم میں تبدیلی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ فلاں شخص دعا کرے گا، پھر اس کی مشکل حل ہو جائے گی۔ (5) اس میں دعا کی ترغیب پائی جاتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا بھی جائز اسباب میں سے ہے جسے اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین توکل ہے۔
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في "السلسلة الصحيحة" 1 / 236 :
أخرجه الترمذي ( 2 / 20 ) و الطحاوي في " المشكل " ( 4 / 169 ) و ابن حيويه في
" حديثه " ( 3 / 4 / 2 ) و عبد الغني المقدسي في " الدعاء " ( 142 - 143 ) كلهم
من طريق أبي مودود عن سليمان التميمي عن أبي عثمان النهدي عن سلمان به .
و قال الترمذي :
" حديث حسن غريب من حديث سلمان ، و أبو مودود اثنان : أحدهما يقال له : فضة ،
و هو الذي روى هذا الحديث ، بصري ، و الآخر عبد العزيز بن أبي سليمان بصري أيضا
و كانا في مصر واحد " .
قلت : و هو ضعيف كما قال ابن أبي حاتم عن أبيه ( 3 / 2 / 93 ) ، فلعل تحسين
الترمذي لحديثه باعتبار أن له شاهدا من حديث ثوبان مرفوعا بزيادة :
" و إن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه " .
رواه ابن ماجه ( 4022 ) و أحمد ( 5 / 277 ، 280 ، 282 ) و ابن أبي شيبة في
" المصنف " ( 12 / 157 / 2 ) و محمد بن يوسف الفريابي في " ما أسند سفيان "
( 1 / 43 / 2 ) و الطحاوي في " المشكل " ( 4 / 169 ) و الطبراني في " المعجم
الكبير " ( 1 / 147 / 2 ) و أبو محمد العدل المخلدي في " الفوائد " ( 2 / 223 /
2 ، 246 / 2 ، 268 / 2 ) و الروياني في " مسنده " ( 25 / 133 / 1 ) و الحاكم
( 1 / 493 ) و أبو نعيم في أخبار أصبهان " ( 2 / 60 ) و البغوي في " شرح السنة
" ( 4 / 81 / 2 ) و القضاعي ( 71 / 1 ) و عبد الغني المقدسي في " الدعاء "
( 142 - 143 ) من طرق عن سفيان الثوري عن عبد الله بن عيسى عن ابن أبي الجعد عن
ثوبان مرفوعا به .
كذا قال بعض المخرجين : " ابن أبي الجعد " لم يسمه ، و سماه بعضهم سالم بن أبي
الجعد ، و بعضهم : عبد الله بن أبي الجعد . فإن كان الأول فهو منقطع لأن سالما
لم يسمع من ثوبان ، و إن كان الآخر ، فهو مجهول كما قال ابن القطان و إن وثقه
ابن حبان ، و قد أشار إلى ذلك الذهبي في " الميزان " فقال :
" و عبد الله هذا و إن كان قد وثق ، ففيه جهالة " .
ثم أخرجه الروياني ( 162 / 1 ) من طريق عمر بن شبيب حدثنا عبد الله بن عيسى
عن حفص و عبيد الله بن أخي سالم عن سالم عن ثوبان به . و زاد :
" إن في التوراة لمكتوب : يا ابن آدم اتق ربك ، و بر والديك ، و صل رحمك أمدد
لك في عمرك ، و أيسر لك يسرك ، و أصرف عنك عسرك " .
قلت : فهذا قد يرجح أن الحديث من رواية سالم بن أبي الجعد لكن عمر بن شبيب ضعيف
كما قال الحافظ في " التقريب " .
و أما حفص و عبيد الله بن أخي سالم فلم أعرفهما .
فإن ثبت هذا الترجيح فهو منقطع ، و إلا فمتصل ، لكن فيه جهالة كما سبق ، فقول
الحاكم عقبه :
" صحيح الإسناد " . مردود و إن وافقه الذهبي ، لجهالة المذكور ، و قد صرح بها
الذهبي كما تقدم ، و هذا من تناقضه الكثير !
و للحديث طريق أخرى عن ثوبان . يرويه أبو علي الدارسي : حدثنا طلحة بن زيد عن
ثور عن راشد بن سعد عن ثوبان .
أخرجه ابن عدي ( ق 34 / 1 ) و قال :
" أبو علي الدارسي بشر بن عبيد منكر الحديث ، بين الضعف جدا " .
قلت : و كذبه الأزدي ، و ساق له في " الميزان " أحاديث و قال :
" و هذه أحاديث غير صحيحه ، فالله المستعان " .
ثم ساق له آخر و قال فيه : " و هذا موضوع " .
و الخلاصة : أن الحديث حسن كما قال الترمذي بالشاهد من حديث ثوبان ، دون
الزيادة فيه ، فإني لم أجد لها شاهدا ، بل روي ما يعارضها بلفظ :
" إن الرزق لا تنقصه المعصية ، و لا تزيده الحسنة .. "
قلت : و لكنه موضوع كما حققته في " الأحاديث الضعيفة " ( رقم 179 ) فلا يصلح
لمعارضة الزيادة المشار إليها .
قوله ( القضاء ) ، أراد به هنا الأمر المقدر لولا دعاؤه .
و قوله ( و لا يزيد في العمر ) ، يعني العمر الذي كان يقصر لولا بره
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صرف نیکی ہی عمر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے اور تقدیر کو محض دعا ٹالتی ہے۔ بلا شبہ انسان کو بعض اوقات ایک گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) یہ روایت بعض محققین کے نزدیک حسن درجے کی ہے جو عندالمحدثین قابل حجت ہوتی ہے، البتہ اس حدیث کا آخری حصہ (وَإِنَّ الرَّجُل...)’’انسان اپنے برے عمل کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے‘‘ کسی معتبر سند سے ثابت نہیں بلکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة، حديث:154، والضعيفة، حديث:179) (2) نیکی کا ثواب جس طرح آخرت میں بلندی درجات اور ابدی نعمتوں کا باعث ہوتا ہے، اسی طرح نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی نعمت، عزت اور مزید نیکی کی توفیق سے نوازتا ہے، اسی طرح برے عمل کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں ملتی ہے، اِلَّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ (3) عمر میں اضافے کے مختلف مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ (ا) یعنی عمر میں برکت ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں میں صرف ہوتی اور ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ (ب) نیکیوں کی توفیق ملتی ہے جس کی وجہ سے مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچتا رہتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالبـقِيـتُ الصّـلِحـتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ أَمَلًا﴾ (الکھف:46) ’’باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے اچھی ہیں۔‘‘ (ج) فرشتوں کو یا ملک الموت کو اس کی جو عمر معلوم تھی، اس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ فرشتوں کے لحاظ سے اضافہ ہے، اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ یہ شخص فلاں نیکی کرے گا جس کے انعام کے طور پر اس کی عمر میں اس قدر اضافہ کر دیا جائے گا۔ (4) تقدیر بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ جس مصیبت سے انسان ڈرتا ہے، دعا کی برکت سے رک جاتی ہے۔ اور آئی ہوئی مصیبت رفع ہو جاتی ہے۔ جس طرح حضرت یونس علیہ السلام کو دعا کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ سے نجات مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَولَا أَنَّهُ كانَ مِنَ المُسَبِّحينَ - لَلَبِثَ فى بَطنِهِ إِلى يَومِ يُبعَثونَ﴾(الصفت: 143،144)’’اگر وہ (اللہ کی) پاکیزگی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہو جاتے، تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس (مچھلی) کے پیٹ ہی میں رہتے۔‘‘ یہاں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تبدیلی فرشتوں کے علم کے مطابق تبدیلی ہے، اللہ کے علم میں تبدیلی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ فلاں شخص دعا کرے گا، پھر اس کی مشکل حل ہو جائے گی۔ (5) اس میں دعا کی ترغیب پائی جاتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا بھی جائز اسباب میں سے ہے جسے اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین توکل ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎ ، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“
حدیث حاشیہ:
۱؎: یعنی نیکی سے عمر میں برکت ہوتی ہے، اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ رہتی ہے، یا نیکی کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالبـقِيـتُ الصّـلِحـتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ أَمَلًا﴾ ”اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں“ (سورۃ الکہف: ۴۶) تو گویا عمر بڑھ گئی یا لوح محفوظ میں جو عمر لکھی تھی اس سے زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَمْحُو اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ یعنی: ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے“ (سورۃ الرعد: ۳۹)، یا ملک الموت نے جو عمر اس کی معلوم کی تھی اس سے بڑھ جاتی ہے، اگرچہ علم الہی میں جو تھی وہی رہتی ہے، اس لئے کہ علم الہی میں موجود چیز کا اس سے پیچھے رہ جانا محال ہے۔ ۲؎: ”تقدیر کو دعا کے سوا ... الخ“ یعنی مصائب اور بلیات جن سے آدمی ڈرتا ہے دعا سے دور ہو جاتی ہیں، اور مجازاً ان بلاؤں کو تقدیر فرمایا، دعا سے جو مصیبت تقدیر میں لکھی ہے آتی ہے مگر سہل ہو جاتی ہے، اور صبر کی توفیق عنایت ہوتی ہے، اس سے وہ آسان ہو جاتی ہے تو گویا وہ مصیب لوٹ گئی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Nothing extends one’s life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he conmijts’” (Da’if)