قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّﷺ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

907 .   حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ، إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نبی ﷺ پر درود شریف کے پڑھنے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

907.   حضرت عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے، فرشتے اس وقت تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہتا ہے۔ اب بندہ چاہے یہ عمل کم کرے یا زیادہ کر لے (اس کی مرضی ہے۔)‘‘