موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ)
حکم : صحیح
952 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ، الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ، الْأَسْوَدُ» قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: «الْكَلْبُ الْأَسْوَدِ شَيْطَانٌ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: کس چیز کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
952. حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب آدمی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز (سترہ کے طور پر) موجودنہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز توڑ دیتے ہیں۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن صامت ؓ نے عرض کیا: سیاہ اور سرخ میں فرق کی کیا وجہ ہے؟ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا: جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے، اسی طرح میں نے بھی رسول اللہﷺ سے سوال کیا تھا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔‘‘