Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Abu Bakr Siddiq)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
99.
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر اور عمر ؓ کے درمیان (چلتے ہوئے گھر سے) باہر تشریف لائے۔ اور فرمایا: ’’ہمیں اس طرح (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
105
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
99
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
99
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ پیدائش اور نام و نسب: آپ نبی اکرم ﷺ سے ڈھائی سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا مبارک نام و نسب یہ ہے: عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی التمیمی، ابوبکر بن ابوقحافہ، خلیفہ رسول ﷺ۔ آپ کا نسب چھٹی پشت میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابوبکر ہے۔ "بکر" عربی زبان میں جواب اونٹ کو کہتے ہیں۔ آپ کی اس کنیت کی وجہ تسمیہ میں مندرجہ ذیل آراء پائی جاتی ہیں: (ا) چونکہ آپ اونٹوں کے ساتھ خاص محبت و انس رکھتے تھے اور ان کی دیکھ بھال میں خاص مہارت و شغف رکھتے تھے، اس لیے آپ کو ابوبکر (اونٹوں کا باپ یا اونٹوں سے محبت و شفقت رکھنے والا) کہا جانے لگا۔(ب) جب کہ بعض علماء نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے، اس لیے آپ کو ابوبکر کہا جانے لگا۔ (ج) علامہ زمخشری کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نیک اعمال اور پاکیزہ فضائل میں پیش پیش ہوتے تھے، لہذا لوگوں نے آپ کو ابوبکر کہنا شروع کر دیا، یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔٭ لقب: آپ کا لقب عتیق ہے۔ ایک روز نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق آپ کے پاس آئے۔ آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: (انت عتيق الله من النار) "آپ کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے آزاد فرما دیا ہے۔" اسی دن سے آپ کا لقب (عتیق) "آگ سے آزاد کردہ" پڑ گیا۔ (جامع الترمذی، حدیث:3679) جب کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں نے آپ کو خلیفہ رسول کا لقب دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اپنی قوم کے معزز اور بلند مرتبہ فرد تھے۔ علم انساب کے ماہر اور ایک کامیاب تاجر تھے۔ تجارت کے ساتھ ساتھ انتہائی کامیاب مبلغ دین بھی تھے۔ ابتدائے اسلام میں آپ کی دعوت سے عشرہ مبشرہ میں سے درج ذیل کبار صحابہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت عثمان، حجرت طلحہ، حجرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حجرت سعد ۔جب آپ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت آپ کے پاس چالیس ہزار دینار یا درہم تھے۔ آپ نے یہ ساری رقم اسلام کی خدمت میں خرچ کر دی۔ خصوصا مسلمان ہونے والے غلاموں کو آاد کرنے کا اہتمام کیا۔ آپ نے حضرت بلال، عامر بن فہیرہ، زنیرہ نہدیہ اور اس کی بیٹی، بنی مومل کی لونڈی اور ام عبیس کو فی سبیل اللہ آزاد کروایا۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ نے مسلمانوں کی قیادت کی۔آپ کی مدت خلافت تقریبا دو سال تین ماہ اور دس دن ہے۔ اس طرح آپ تریسٹھ برس کی عمر میں 22 جمادی الاخریٰ میں فوت ہو گئے۔ رضي الله عنه و ارضاه.حضرت ابوبکر الصدیق نے چار شادیاں کیں۔ آپ کی ازواج اور اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:٭قتیلہ بنت عبدالعزی: آپ کی یہ بیوی مسلمان نہ ہوئی تو آپ نے اسے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر اور حضرت اسماء ذات النطاقین ؓ انہی کے بطن سے تھے۔٭حضرت ام رومان: یہ ابتدائے اسلام ہی میں مسلمان ہوئیں۔ ان کے بطن سے حضرت عبدالرحمٰن اور حضرت عائشہ ؓ پیدا ہوئے۔٭ حضرت اسماء بنت عمیس: یہ حضرت جعفر کی زوجہ محترمہ تھیں۔ حضرت جعفر کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے ان سے نکاح کر لیا۔ محمد بن ابوبکر انہی کے بطن سے ہیں۔٭ حضرت حبیبہ بنت خارجہ: آپ حضرت ابوبکر صدیق کے مواخاتی بھائی حضرت خارجہ کی لخت جگر ہیں۔ آپ کے بطن سے حضرت ام کلثوم پیدا ہوئیں۔٭ حلیہ مبارک: حضرت ابوبکر صدیق گورے چٹے، دبلے پتلے اور موزوں قامت تھے۔ آپ کی پیشانی بلند، ستا ہوا چہرہ، گھنگریالے بال اور صاحب وجاہت و عظمت تھے۔ آپ فطرتا کم گو، سنجیدہ اور باوقار تھے۔٭ حضرت علی کا خراج تحسین: آپ کی وفات پر حضرت علی نے ان جذبات کا اظہار کیا: "اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم ففرمائے۔ اللہ کی قسم ساری امت میں آپ سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔ آپ سب سے بڑھ کر مخلص، اللہ سے خوف کھانے والے اور رسول اللہ ﷺکے معتمد علیہ تھے۔ آپ نے سب سے بڑھ کر اسلام کو نفع پہنچایا۔ رسول اللہ ﷺ کی سب سے زیادہ صحبت آپ کو ملی، اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ نے اس وقت رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا جب لوگوں نے آپ کو تکالیف دیں۔ واللہ! آپ اسلام کا مضبوط قلعہ تھے اور کفار کو ذلیل و خوار کرنے والے تھے۔ آپ کی حجت میں غلطی ہوئی نہ آپ کی بصیرت میں ضعف آیا۔ آپ نے شاندار خلافت کی اور شریعت کی ایسی پاسبانی کی جو کسی نبی کے خؒیفہ کے نصیب میں نہیں آئی۔ آپ بلا نزاع و تفرقہ خلیفہ برحق تھے اور آپ ایسے ہی تھے جیسے رسول اللہ ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا۔ کمزور بدن، قوی ایمان، منکسر مزاج اور اللہ کے ہاں آپ عالی مرتبت تھے۔ زمین پر بزرگ اور مومنوں میں افضل تھے۔ آپ نے باطل کو اکھاڑ کر پھنک دیا اور اسلام اوور مسلمانوں کو مضبوط بنایا۔ واللہ! رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی وفات سے بڑھ کر مسلمانوں پر کبھی کوئی مصیبت نہیں پڑے گی۔"
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر اور عمر ؓ کے درمیان (چلتے ہوئے گھر سے) باہر تشریف لائے۔ اور فرمایا: ’’ہمیں اس طرح (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔‘‘
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے، اور فرمایا: ”ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔“
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah (ﷺ) , came out standing between Abu Bakr (RA) and ‘Umar and said: ‘Thus will I be rescurrected.” (Da’if)