قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِينَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1003.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ نَعَمْ

صحیح مسلم:

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1003.   عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انھوں نے اپنے والد سے، اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘