قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1096.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ، أَكْلَةُ السَّحَرِ»

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1096.   لیث نے موسیٰ بن علی سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے عمرو بن عاص کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے اور انہوں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہمارے  اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کے کھانے کا ہے۔‘‘ (رات کے کھانے کی طرح سحری کا کھانا بھی ہمارا معمول ہے۔)