قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1103.   حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تُوَاصِلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّكُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ: «لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ» كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (روزوں میں )وصال (ایک روزے کو افطار کیے بغیر دوسرے سے ملانے)کی ممانعت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1103.   سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: آ پ تو وصال کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کون میری مثل  ہے؟ میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھ کھلاتا اور پلاتا ہے۔‘‘ تو جب لوگوں نے وصال چھوڑنے سے انکار کیا تو آپﷺ نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن بلا افطار و سحری روزہ رکھا، اس کے بعد انھوں نے چاند دیکھ لیا، آپﷺ نے فرمایا: اگر چاند لیٹ ہوتا تو میں تمھارے ساتھ  مزید (وصال) کرتا۔‘‘ جب انہوں نے باز آنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے انھیں سزا دینے والے کی طرح فرمایا۔