قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1161.   وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: - أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ - «يَا فُلَانُ، أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ»

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ہر مہینے تین دن کےے روزے رکھنا اور عرفہ ‘عاشورہ ‘سوموار اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1161.   حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا یا کسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے:۔ ’’اےفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، نہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو جب (رمضان مکمل کر کے) روزے ترک کرو تو (ہرمہینے) دو دن کے روزے رکھتے رہو۔‘‘