قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1273.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ»

صحیح مسلم:

کتاب: حج کے احکام ومسائل 

  (

باب: اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1273.   علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی، انھوں نے ابن جریج سے، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پربیت اللہ کا طواف فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ (سواری پر طواف اس لئے کیا) تا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھیں، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرلیں کیونکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ہجوم کرلیا تھا۔