قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْحَجِّ (بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1288.   وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ» فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ، حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ تَعَالَى "

صحیح مسلم:

کتاب: حج کے احکام ومسائل 

  (

باب: عرفات سے مزدلفہ آنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کرنا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1288.   عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں، ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔