قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1476.   حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا، إِذَا كَانَ فِي يَوْمٍ لِلْمَرْأَةِ مِنَّا، بَعْدَ مَا نَزَلَتْ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} [الأحزاب: 51] " فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ: فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكِ؟ قَالَتْ: «كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي

صحیح مسلم:

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1476.   عباد بن عباد نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی، انہوں نے معاذ عدویہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ‬ رضی اللہ تعالیٰ عنہا س‬ے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہم میں سے کسی بیوی کی باری کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی اور بیوی کے ہاں جانے کے لیے) ہم سے اجازت لیتے تھے، حالانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی: (آپ ان میں سے جسے چاہیں (خود سے) الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں۔) تو معاذہ نے ان سے پوچھا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تو آپ ان سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں کہتی تھی: اگر یہ (اختیار) میرے سپرد ہے تو میں اپنے آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتی۔