قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1556.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ»، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ

صحیح مسلم:

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

 

کتاب تمہید  (

باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا (اللہ کے نزدیک )پسندیدہ ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1556.   لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس پر صدقہ کرو۔‘‘ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی (جتنی مالیت) تک نہ پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قرض داروں سے فرمایا: ’’جو تمہیں مل جائے، وہ لے لو، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔‘‘