قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ (بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1674.   حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ، فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهَا، وَقَالَ: «أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ

صحیح مسلم:

کتاب: قتل کی ذمہ داری کی تعیین کے لیے اجتماعی قسموںاور لوٹ ےمار کرنے والوں(کی سزا)قصاص اور دیت کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو ‘جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1674.   بدیل نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے صفوان بن یعلیٰ سے روایت کی کہ یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک ملازم تھا کسی آدمی نے اس کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا سامنے والا دانت گر گیا، معاملہ نبی ﷺ تک لایا گیا تو آپﷺ نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ’’تم چاہتے تھے کہ اسے (اس کی کلائی کو اس طرح) چبا ڈالو جس طرح سانڈ چناتا ہے۔‘‘