صحيح مسلم: كِتَابُ اللُّقَطَةِ (بَابُ تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْ نِ مَالِكِهَا)

حکم :

ترجمۃ الباب:

1726.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ

صحیح مسلم:

کتاب: کسی کو ملنے والی ایسی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

 

کتاب تمہید  (

باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کا دودھ دھونا حرام ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1726.   امام مالک بن انس نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی آدمی کسی کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ نکالے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے بالا خانے میں آیا جائے، اس کا گودام توڑا جائے اور اس کا غلہ منتقل کر لیا جائے؟ لوگوں کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے لیے ان کی خوراک محفوظ رکھتے ہیں، لہذا کوئی آدمی کسی کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر دوہے۔‘‘