قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ، وَأَنَّهُ الْيَوْمَ حَلَالٌ مَا لَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2000.   و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيذِ فِي الْأَوْعِيَةِ قَالُوا لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ فَأَرْخَصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2000.   حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے (بعض خاص) برتنوں میں نبیذ (بنانے) سے منع فرمایا، (اور مشکیزوں میں مشروب بنانے اور پینے کا حکم دیا) تو لوگوں نے کہا: ہر شخص کو (مشکیزے یا دوسرے برتن) میسر نہیں ہوتے، اس پر آپ ﷺ نے مٹی کے ایسے گھڑوں کی اجازت دی جس میں روغن زفت ملا ہوا نہ ہو۔