قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ استِحبَابِ تَخمِیرِ الْإِنَاءِ وَهُوَ تَغْطِيَةِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2012.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2012.   قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انھوں نے ابوزبیرسے، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’برتنوں کو ڈھانک دو، مشکوں کا منہ بند کردو، دروازہ بند کردواورچراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا، وہ دروازہ (بھی) نہیں کھولتا، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو اسکے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے یا اس پر اللہ کا نام (بسم اللہ) پڑ ھ دے تو (یہی) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر(یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں) ان کا گھر جلا دیتی ہے۔‘‘ قتیبہ نے اپنی حدیث میں: ’’اور دروازہ بند کر دو‘‘ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔