قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا (بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2247.   حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ»

صحیح مسلم:

کتاب: ادب اور دوسری باتوں(عقیدے اورانسانی رویوں)سے متعلق الفاظ

 

کتاب تمہید  (

باب: عنب (انگور اور اس کی بیل ) کو کرم کہنا مکروہ ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2247.   ایوب نے ابن سیرین سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہے، کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے (کا مالک) ہے اور تم میں سے کو ئی شخص عنب (انگور اور اس کی بیل) کو کرم نہ کہے، کیونکہ کرم (اصل) میں مسلمان آدمی ہوتا ہے۔‘‘