قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَلْفَاظِ مِنَ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا (بَابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2248.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَبْلَةُ " يَعْنِي الْعِنَبَ

صحیح مسلم:

کتاب: ادب اور دوسری باتوں(عقیدے اورانسانی رویوں)سے متعلق الفاظ

 

کتاب تمہید  (

باب: عنب (انگور اور اس کی بیل ) کو کرم کہنا مکروہ ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2248.   عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے، انھوں نے سماک بن حرب سے، انھوں نے علقمہ بن وائل سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپﷺ نے فرمایا:"( ’’انگور اور اس کی بیل کو) کرم نہ کہا کرو۔ لیکن حبلہ کہہ لو۔‘‘ آپﷺ کی مراد انگور سے تھی۔