قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ مُبَاعَدَتِهِ ﷺ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنْ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2328.   حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

صحیح مسلم:

کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: آپ ﷺ کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا)

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2328.   ابو اسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو، نہ کسی غلام کو، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہوں۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی (ایسا نہیں ہوا کہ) آپﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو مگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتا تو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے۔