قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ أَيْمَنؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2453.   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ» قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا أَوْ لَمْ يُرِدْهُ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ

صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

 

کتاب تمہید  (

باب: حضرت ام ایمنؓ کے فضائل

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2453.   ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا۔ کہا: تو مجھے معلوم انھوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ ﷺ کو (وہ مشروب) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے، (آپ نے پینے میں تردد فرمایا) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں (جس طرح ایک ماں کرتی ہے۔)