قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ، وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

659.   وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ»

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

 

کتاب تمہید  (

باب: نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی ، جائے نماز اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

659.   ابو التیاح نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے۔ بسا اوقات آپﷺ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا، پھر آپﷺ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپﷺ کے نیچے ہوتی، اسے جھاڑا جاتا، پھر اس پر پانی چھڑکا جاتا، پھر آپﷺ امامت فرماتے اور ہم آپﷺ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپﷺ ہمیں نماز پڑھاتے۔ کہا: ان کی چٹائی کجھور کے پتوں کی ہوتی تھی۔