قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

927.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بِشْرٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت کے گھر والوں کے رونے پراسے عذاب دیا جاتا ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

927.   نافع نے حضرت عبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! رک جاؤ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میت کو اس پر اس کے گھروالوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جا تا ہے۔‘‘