قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

944.   و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ قَالَ تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے کو جلدی لیے جانا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

944.   سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سعید (بن مسیب) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی، آپﷺ نے فرمایا: ’’جنازے (کو لے جانے) میں جلدی کرو، اگر وہ (میت) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیر ہے اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو گے۔‘‘