قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

953.   و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ إِنَّ أَخَاكُمْ

صحیح مسلم:

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے کی تکبیریں

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

953.   زہیر بن حرب،علی بن حجر، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی، انھوں نے ابو قلابہ سے، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمھارا ایک بھائی وفات پا گیا ہے لہٰذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔‘‘ آپﷺ کی مراد نجاشی سے تھی۔ اور زہیر کی روایت میں إِنَّ أَخَالكُمْ ’’تمھارا ایک بھائی‘‘ کی بجائے) إِنَّ أَخَاكُمْ (تمھارا بھائی) کےالفاظ ہیں۔