قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابٌ: مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: لِقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ»

1406. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ سَمِعَ هُشَيْمًا أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْزَلَكَ مَنْزِلكَ هَذَا قَالَ كُنْتُ بِالشَّأْمِ فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ فِي الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُلْتُ نَزَلَتْ فِينَا وَفِيهِمْ فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فِي ذَاكَ وَكَتَبَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْكُونِي فَكَتَبَ إِلَيَّ عُثْمَانُ أَنْ اقْدَمْ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُهَا فَكَثُرَ عَلَيَّ النَّاسُ حَتَّى كَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْنِي قَبْلَ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَاكَ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لِي إِنْ شِئْتَ تَنَحَّيْتَ فَكُنْتَ قَرِيبًا فَذَاكَ الَّذِي أَنْزَلَنِي هَذَا الْمَنْزِلَ وَلَوْ أَمَّرُوا عَلَيَّ حَبَشِيًّا لَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ

صحیح بخاری:

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

(

باب: جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے۔

)

تمہید کتاب تمہید باب

مترجم:

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ کیونکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

1406. حضرت زید بن وہب سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ربذہ سے گزرا تو وہاں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دکھائی دیے ،میں نے ان سے دریافت کیا:آپ یہاں کیوں آگئے ہیں؟انھوں نے جواب دیا:میں شام میں تھا ،میرا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس آیت کریمہ کے متعلق اختلاف ہوگیا:"جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انھیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر دو۔"حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے متعلق نازل ہوئی جبکہ میرا موقف ہے کہ مذکورہ آیت ہمارے اور اہل کتاب دونوں کے متعلق ہے۔اس آیت کے متعلق اختلاف کے نتیجے میں ہمارے درمیان کچھ تلخی پیدا ہوگئی تو انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بذریعہ خط میری شکایت کی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ تم مدینہ چلے آؤ ،چنانچہ میں مدینہ چلاآیا تو میرے ہاں لوگوں کا اس قدر ہجوم ہونے لگا گویا انھوں نے مجھے پہلے کبھی دیکھا ہی نہ تھا ،پھر میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگوں کے ہجوم کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا: اگر تم مناسب خیال کرو تو مدینہ سے ہٹ کر کسی دوسری قریبی جگہ الگ قیام اختیارکرلو۔بس یہی بات مجھے یہاں (ربذہ) لے آئی ہے۔ اگر وہ کسی حبشی کو بھی میرا امیر مقرر کردیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔