قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابُ فَرْضِ مَوَاقِيتِ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمة الباب:

1538 .   حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ قَالَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

 

تمہید کتاب  (

باب: حج اور عمرہ کی میقاتوں کا بیان

)
 

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1538.   زید بن جبیر کہتے ہیں کہ وہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  کے پاس آئے۔ وہاں ان کی قیام گاہ پر خیمے اور قناتیں لگی ہوئیں تھیں، میں نے دریافت کیا: میں کہاں سے عمرے کے لیے احرام باندھوں؟انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجد کے لیے قرن منازل اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیےحجفہ مقرر فرمایا ہے۔