قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الِاعْتِكَافِ (بَابٌ: هَلْ يَدْرَأُ المُعْتَكِفُ عَنْ نَفْسِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

2039. حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَلَمَّا رَجَعَتْ مَشَى مَعَهَا فَأَبْصَرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا أَبْصَرَهُ دَعَاهُ فَقَالَ تَعَالَ هِيَ صَفِيَّةُ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ هَذِهِ صَفِيَّةُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ قُلْتُ لِسُفْيَانَ أَتَتْهُ لَيْلًا قَالَ وَهَلْ هُوَ إِلَّا لَيْلٌ

صحیح بخاری:

کتاب: اعتکاف کے مسائل کا بیان

تمہید کتاب (باب : اعتکاف والا اپنے اوپر سے کسی بدگمانی کو دور کرسکتا ہے)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2039.

حضرت صفیہ  ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں جبکہ آپ اعتکاف کی حالت میں تھے۔ پھر جب وہ واپس جانے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ چلے۔ اس دوران میں آپ کو ایک انصاری جوان نے دیکھا۔ جب آپ کی نظر اس پر پڑی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ’’ادھر آؤ!یہ (میری بیوی) صفیہ ہے۔۔۔ سفیان نے بعض اوقات (ھی صفية کی بجائے) هذه صفية کے الفاظ کہے۔۔۔ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ وضاحت ضروری سمجھی) کیونکہ شیطان ابن آدم کے رگ وریشے میں خون کی طرح سرایت کرتا ہے۔‘‘ (علی بن عبداللہ کہتے ہیں) میں نے اپنے شیخ سفیان سے کہا: حضرت صفیہ  ؓ آپ کے پاس رات کو آئی تھیں؟تو انھوں نے جواب دیا: رات ہی تو تھی۔