قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّلاَةِ (بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْرِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

482. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاَتَيِ العَشِيِّ - قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا - قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَوَضَعَ خَدَّهُ الأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ اليُسْرَى، وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ المَسْجِدِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلاَةُ؟ وَفِي القَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي القَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُقَالُ لَهُ: ذُو اليَدَيْنِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ؟ قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو اليَدَيْنِ» فَقَالُوا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ

صحیح بخاری:

کتاب: نماز کے احکام و مسائل

(

باب: مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے۔

)

تمہید کتاب تمہید باب

مترجم:

482. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی اور دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد مسجد میں گاڑھی ہوئی ایک لکڑی کی طرف گئے اور اس پر ٹیک لگا لی، گویا آپ ناراض ہوں اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل فرمایا اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ لیا۔ جلد باز لوگ تو مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور مسجد میں حاضر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا: کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ ان لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ بھی موجود تھے، مگر ان دونوں نے آپ سے گفتگو کرنے سے ہیبت محسوس کی۔ ایک شخص جس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اور اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: "نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے۔" پھر آپ نے فرمایا: "کیا ذوالیدین صحیح کہتا ہے؟" لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ آگے بڑھے اور جتنی نماز رہ گئی تھی اسے ادا کیا، پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد آپ نے تکبیر کہی اور سجدہ سہو کیا جو عام سجدے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا تھا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا جو اپنے عام سجدوں کی سطح یا اس سے کچھ طویل تھا۔ پھر سر اٹھا کر اللہ اکبر کہا اور سلام پھیر دیا۔