قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ فَضَائِلِ القُرْآنِ (بَابُ تَأْلِيفِ القُرْآنِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

4993. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ قَالَ إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ فَقَالَ أَيُّ الْكَفَنِ خَيْرٌ قَالَتْ وَيْحَكَ وَمَا يَضُرُّكَ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرِينِي مُصْحَفَكِ قَالَتْ لِمَ قَالَ لَعَلِّي أُوَلِّفُ الْقُرْآنَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ قَالَتْ وَمَا يَضُرُّكَ أَيَّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنْ الْمُفَصَّلِ فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ لَقَالُوا لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوا لَقَالُوا لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ بَلْ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ وَمَا نَزَلَتْ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ قَالَ فَأَخْرَجَتْ لَهُ الْمُصْحَفَ فَأَمْلَتْ عَلَيْهِ آيَ السُّوَرِ

مترجم:

4993. سیدنا یوسف بن ماہک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس تھا۔ اس دوران میں ایک عراقی آیا اور کہنے لگا: کون سا کفن بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس!کفن جس طرح کا بھی ہو تجھے اس سے کیا نقصان ہوگا؟ پھر اس نے کہا: ام المومنین! مجھےاپنا مصحف دکھائیں۔ سیدنا عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا میں نے اس کے مطابق قرآن کی ترتیب کرنا چاہتا ہوں کیونکہ قرآن میں ترتیب کے بغیر پڑھا جاتا ہے۔ سیدنا عائش‬ ؓ ن‬ے فرمایا: اس میں کیا قباحت ہے جو سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہوگئے تو حلال وحرام سے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ اگر پہلے ہی یہ نازل ہوتا کہ لوگو! شراب نہ پیو تو وہ کہتے : ہم شراب کبھی ترک نہیں کریں گے اور اگر پہلے نازل ہوتا کہ زنانہ کرو تو لوگ کہتے ہم اسے کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے مکہ مکرمہ میں حضرت محمد ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں جبکہ میرا بچپن تھا اور میں کھیلا کرتی تھی: «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» لیکن سورہ بقرہ اور سورہ نساء اس وقت نازل ہوئیں جب میں آپ ﷺ کے پاس تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عراقی کے لیے مصحف نکالا اور ہر سورت کی آیات کےے متعلق اسے تفصیل لکھوائی۔