قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ حَدُّ المَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الجَمَاعَةَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

664. حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرْنَا المُوَاظَبَةَ عَلَى الصَّلاَةِ وَالتَّعْظِيمَ لَهَا، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَأُذِّنَ فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ مِنَ الوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ، قِيلَ لِلْأَعْمَشِ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُوبَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: بِرَأْسِهِ نَعَمْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضَهُ، وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(

باب: بیمار کو کس حد تک جماعت میں آنا چاہئے

)

تمہید کتاب تمہید باب

مترجم:

664. حضرت اسود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران میں ہم نے نماز کی پابندی اور اس کی عظمت کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ مرض وفات میں مبتلا ہوئے اور نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ نے فرمایا: "ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" اس وقت آپ سے عرض کیا گیا: ابوبکر بڑے نرم دل انسان ہیں۔ جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو (شدت غم سے) لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ نے دوبارہ وہی حکم دیا تو پھر وہی عرض کیا گیا، آپ نے تیسری مرتبہ پھر وہی کہا اور فرمایا: "تم حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں کچھ کمی محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر نکلے، گویا میں اب بھی آپ کے دونوں پاؤں دیکھ رہی ہوں کہ وہ کمزوری کی وجہ سے زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہا تو نبی ﷺ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپ کو لایا گیا تا آنکہ آپ ابوبکر ؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت اعمش سے دریافت کیا گیا: آیا نبی ﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر ؓ آپ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر ؓ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے؟ تو حضرت اعمش نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔ ابوداود (طیالسی) نے اس حدیث کا کچھ حصہ شعبہ سے روایت کیا ہے۔ اور ابو معاویہ نے حضرت اعمش سے جو روایت بیان کی ہے اس میں مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ ہے: رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کی بائیں جانب بیٹھ گئے جبکہ ابوبکر ؓ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔