قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: أَهْلُ العِلْمِ وَالفَضْلِ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

681. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمْ يَخْرُجِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثًا»، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِالحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ»

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

(

باب: امامت کرانے کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو علم اور (عملی طور پر بھی) فضیلت والا ہو۔

)

تمہید کتاب

مترجم:

681. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ ایام علالت میں تین دن تک باہر تشریف نہ لا سکے۔ پھر ایک دن نماز کے لیے تکبیر ہو چکی تھی اور حضرت ابوبکر ؓ جماعت کے لیے پیش قدمی کرنے کو تھے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا۔ آپ کا رخ زیبا دکھائی دیا۔ یقینا آپ کے روئے انور سے بڑھ کر حسین و جمیل منظر ہم نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو نماز کے لیے آگے بڑھنے کو کہا اور پردہ گرا دیا۔ اس کے بعد کئی بھی آپ کو نہ دیکھ سکا حتی کہ آپ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ (إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)