قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابٌ: كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ ﷺوَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6454.   حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ المَدِينَةَ، مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ»

صحیح بخاری:

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: نبی کریم ﷺاور آپ ﷺ کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا کے مزوں سے ان کا علیحدہ رہنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6454.   سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت محمد ﷺ کے اہل خانہ نے مدینہ طیبہ آنے کے بعد آپ ﷺ کی وفات تک کبھی تین راتیں برابر گہیوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔