قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّعْبِيرِ (بَابُ الأَمْنِ وَذَهَابِ الرَّوْعِ فِي المَنَامِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

7029.   فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ، لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ» فَقَالَ نَافِعٌ: «فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ»

صحیح بخاری:

کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب : خواب میں آدمی اپنے تئیں بے ڈر دیکھے

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7029.   میں نے اس خواب کا ذکر (اپنی ہمشیرہ ام المومینن) حضرت حفصہ‬ ؓ س‬ے کیا۔ حضرت حفصہ‬ ؓ ن‬ے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ اچھا آدمی ہے (اگر وہ تہجد کا اہتمام کرے)۔“ (راوی حدیث) حضرت نافع نے کہا: اس خواب کے بعد ابن عمر ؓ نماز (تہجد) کا بہت خیال کرتے تھے۔