قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَحْكَامِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

7178.   حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا فَنَقُولُ لَهُمْ خِلَافَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ قَالَ كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا

صحیح بخاری:

کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب : بادشاہ کے سامنے منھ در منھ خوشامد کرنا، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7178.   سیدنا محمد بن زید سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے کہا: جب ہم اپنے بادشاہ کے پاس جاتے ہیں تو ان کے سامنے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ باہر آکر اس کے خلاف کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے جواب دیا: ہم اسے نفاق شمار کرتے تھے۔