قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّمَنِّي (بَابُ تَمَنِّي الخَيْرِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لَوْ كَانَ لِي [ص:83] أُحُدٌ ذَهَبًا»

7228.   حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ

صحیح بخاری:

کتاب: نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب : نیک کام جیسے خیرات کی آرزو کرنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ” اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں اسے بھی خیرات کردیتا

7228.   سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس اُحد جتنا سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ اگر لینے والے مل جائیں تو تین دن گزرنے سے پہلے پہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، سوائے اس کے جسے میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔“