قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ رَفْعِ العِلْمِ وَظُهُورِ الجَهْلِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وقَالَ رَبِيعَةُ: «لاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنَ العِلْمِ أَنْ يُضَيِّعَ نَفْسَهُ»

80.   حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا

صحیح بخاری:

کتاب: علم کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب:علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

اور ربیعہ کا قول ہے کہ جس کے پاس کچھ علم ہو، اسے یہ جائز نہیں کہ ( دوسرے کام میں لگ کر علم چھوڑ دے اور ) اپنے آپ کو ضائع کر دے۔

80.   حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔ شراب بکثرت نوش کی جائے گی اور زناکاری عام ہو جائے گی۔‘‘