قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجُمُعَةِ (بَابٌ:)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمة الباب:

901 .   حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ امْرَأَةٌ لِعُمَرَ تَشْهَدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهَا لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ قَالَتْ وَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي قَالَ يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ

صحیح بخاری:

کتاب: جمعہ کے بیان میں

 

تمہید کتاب  (

باب:

)
  تمہید باب

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

901.   حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عمر ؓ کی زوجہ محترمہ فجر اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جاتیں اور جماعت میں شریک ہوتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ تم باہر کیوں نکلتی ہو جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا عمر ؓ کو یہ ناگوار گزرتا ہے اور انہیں اس پر غیرت آتی ہے؟ زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ وہ مجھے روکتے کیوں نہیں ہیں، ان کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان باعث رکاوٹ ہے: ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو۔‘‘