مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
901.
حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عمر ؓ کی زوجہ محترمہ فجر اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جاتیں اور جماعت میں شریک ہوتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ تم باہر کیوں نکلتی ہو جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا عمر ؓ کو یہ ناگوار گزرتا ہے اور انہیں اس پر غیرت آتی ہے؟ زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ وہ مجھے روکتے کیوں نہیں ہیں، ان کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان باعث رکاوٹ ہے: ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو۔‘‘
تشریح:
(1) امام بخاری ؒ اللہ عورتوں کے رات کے وقت نماز کے لیے مسجد میں جانے سے متعلق اس حدیث کو ادنیٰ تعلق اور معمولی مناسبت کی وجہ سے لائے ہیں۔ مفہوم موافق کی بنا پر یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر عورتیں جمعہ کے لیے گھروں سے نکلیں تو وہ بدرجۂ اولیٰ جائز ہو گا کیونکہ رات کی نسبت دن کا وقت فتنوں سے امن کا ہے، البتہ احناف نے مفہوم مخالف کی بنا پر اس حدیث سے یہ اخذ کیا ہے کہ رات کی قید سے جمعہ کی شرکت خارج ہو گئی کیونکہ رات کے وقت تو فسق و فجور والے اپنی بدکرداری میں مصروف ہوتے ہیں اور دن میں انہیں کام نہیں ہوتا، اس لیے وہ آزادی سے گھومتے ہیں اور عورتوں کا تعاقب کر کے ان کے لیے فتنے کا باعث بنتے ہیں۔ ان حضرات کا موقف اس لیے غلط ہے کہ فساق کا فتنہ دن کے وقت بہت کم ہوتا ہے، نیز دوسرے لوگوں کی وجہ سے وہ چھیڑ چھاڑ کی جراءت نہیں کر سکیں گے۔ (2) حضرت عمر ؓ کی زوجۂ محترمہ کا نام عاتکہ بنت زید تھا جو حضرت سعید بن زید ؓ کی ہمشیرہ تھیں۔ یہ پابندی کے ساتھ نماز عشاء اور نماز فجر مسجد میں باجماعت ادا کرتی تھیں، حتیٰ کہ جب حضرت عمر ؓ مسجد میں زہر آلود خنجر سے زخمی ہوئے تو ان کی مذکورہ بیوی مسجد ہی میں تھیں۔ اگرچہ حضرت عمر ؓ کو ان کا مسجد میں آنا ناگوار تھا لیکن انہیں منع نہیں کرتے تھے۔ (فتح الباري:493/2)
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
887
٧
ترقيم دار طوق النّجاة (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار طوق النجاۃ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
900
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
900
١٠
ترقيم فؤاد عبد الباقي (داود راز)
ترقیم فواد عبد الباقی (داؤد راز)
900
تمہید کتاب
جمعہ ایک اسلامی تہوار ہے۔ اسے دور جاہلیت میں العروبة کہا جاتا تھا۔ دور اسلام میں سب سے پہلے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے انصار مدینہ کے ہمراہ نماز اور خطبۂ جمعہ کا اہتمام کیا۔ چونکہ اس میں لوگ خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں، اس لیے اس کا نام جمعہ رکھا گیا۔ دن رات کی نمازوں کے علاوہ کچھ نمازیں ایسی ہیں جو صرف اجتماعی طور پر ہی ادا کی جاتی ہیں۔ وہ اپنی مخصوص نوعیت اور امتیازی شان کی وجہ سے اس امت کا شعار ہیں۔ ان میں سے ایک نماز جمعہ ہے جو ہفتہ وار اجتماع سے عبارت ہے۔ نماز پنجگانہ میں ایک محدود حلقے کے لوگ، یعنی ایک محلے کے مسلمان جمع ہو سکتے ہیں، اس لیے ہفتے میں ایک ایسا دن رکھا گیا ہے جس میں پورے شہر اور مختلف محلوں کے مسلمان ایک خاص نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں جمع ہوں۔ ایسے بڑے اجتماع کے لیے ظہر کا وقت ہی مناسب تھا تاکہ تمام مسلمان اس میں شریک ہو سکیں، پھر نماز جمعہ صرف دو رکعت رکھی گئی اور اس عظیم اجتماع کو تعلیمی اور تربیتی لحاظ سے زیادہ مفید اور مؤثر بنانے کے لیے خطبۂ وعظ و نصیحت کو لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے لیے ہفتے کے سات دنوں میں سے بہتر اور باعظمت دن جمعہ کو مقرر کیا گیا۔ اس دن اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت بندوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی ہے۔ اس دن اللہ کی طرف سے بڑے بڑے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں اور آئندہ رونما ہونے والے ہیں۔ اس اجتماع میں شرکت و حاضری کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ نماز سے پہلے اس اجتماع میں شرکت کے لیے غسل کرنے، صاف ستھرے کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے کی ترغیب بلکہ تاکید کی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کا یہ عظیم ہفتہ وار اجتماع توجہ الی اللہ اور ذکر و دعا کی باطنی برکات کے علاوہ ظاہری حیثیت سے بھی خوش منظر اور پربہار ہو۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی مایۂ ناز تالیف "زاد المعاد" میں جمعہ کی 32 خصوصیات ذکر کی ہیں۔ ان میں چند ایک حسب ذیل ہیں: ٭ اسے یوم عید قرار دیا گیا ہے۔ ٭ اس دن غسل، خوشبو، مسواک اور اچھے کپڑے زیب تن کرنے کی تاکید ہے۔ ٭ اس دن مساجد کو معطر کرنے کا حکم ہے۔ ٭ نمازی حضرات کا جمعہ کی ادائیگی کے لیے صبح سویرے مسجد میں آ کر خطیب کے آنے تک خود کو عبادت میں مصروف رکھنا اللہ کو بہت محبوب ہے۔ ٭ اس دن ایسی گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ ٭ اس دن کا خصوصیت کے ساتھ روزہ رکھنا منع ہے۔ (زاد المعاد:1/421،375،وفتح الباری:2/450)امام بخاری رحمہ اللہ نے جمعہ کے احکام بیان کرنے کے لیے بڑا عنوان کتاب الجمعۃ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت چالیس کے قریب چھوٹے چھوٹے عنوانات رکھے ہیں جن میں فرضیت جمعہ، فضیلت جمعہ، آداب جمعہ (ان میں غسل کرنا، خوشبو اور تیل لگانا، صاف ستھرے اچھے کپڑے پہننا، مسواک کرنا اور اس کے لیے آرام و سکون سے آنا وغیرہ شامل ہیں۔) آداب صلاۃ جمعہ، شہروں اور بستیوں میں مشروعیت جمعہ، آداب خطبۂ جمعہ، اذان جمعہ، سامعین، مؤذن اور خطیب کے آداب بیان کرتے ہیں۔ آخر میں جمعہ سے متعلق متفرق مسائل کو ذکر کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس بڑے عنوان کتاب الجمعۃ میں 79 مرفوع احادیث بیان کی ہیں جن میں 64 موصول اور 15 معلق اور متابعات ہیں۔ ان میں 36 مکرر اور 43 احادیث خالص اور صافی ہیں، نیز اس میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے 14 آثار بھی نقل کیے ہیں۔ واضح رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ 12 احادیث کے علاوہ باقی تمام احادیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی وہبی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے بے شمار حدیثی فوائد اور اسنادی لطائف بیان کیے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ ہماری معروضات کو پیش نظر رکھ کر اس (کتاب الجمعۃ) کا مطالعہ کریں تاکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے بیان کردہ علوم و معارف کا اندازہ ہو سکے اور اس سے استفادہ اور افادہ میسر ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے دن محدثین کے زمرے میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
تمہید باب
صحیح بخاری کے متعدد نسخوں میں اس مقام پر "باب" کا اضافہ نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بخاری کی شرح کرتے وقت جس نسخے کو سامنے رکھا ہے اس میں بھی لفظ باب کی صراحت نہیں ہے، البتہ ناشرین نے صحیح بخاری اور شرح بخاری (فتح الباری) میں یہاں "باب" کا ذکر کیا ہے، گویا یہ باب سابقہ عنوان کا تتمہ اور تکملہ ہے۔ واللہ اعلم
حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عمر ؓ کی زوجہ محترمہ فجر اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جاتیں اور جماعت میں شریک ہوتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ تم باہر کیوں نکلتی ہو جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا عمر ؓ کو یہ ناگوار گزرتا ہے اور انہیں اس پر غیرت آتی ہے؟ زوجہ محترمہ نے جواب دیا کہ وہ مجھے روکتے کیوں نہیں ہیں، ان کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان باعث رکاوٹ ہے: ’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) امام بخاری ؒ اللہ عورتوں کے رات کے وقت نماز کے لیے مسجد میں جانے سے متعلق اس حدیث کو ادنیٰ تعلق اور معمولی مناسبت کی وجہ سے لائے ہیں۔ مفہوم موافق کی بنا پر یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر عورتیں جمعہ کے لیے گھروں سے نکلیں تو وہ بدرجۂ اولیٰ جائز ہو گا کیونکہ رات کی نسبت دن کا وقت فتنوں سے امن کا ہے، البتہ احناف نے مفہوم مخالف کی بنا پر اس حدیث سے یہ اخذ کیا ہے کہ رات کی قید سے جمعہ کی شرکت خارج ہو گئی کیونکہ رات کے وقت تو فسق و فجور والے اپنی بدکرداری میں مصروف ہوتے ہیں اور دن میں انہیں کام نہیں ہوتا، اس لیے وہ آزادی سے گھومتے ہیں اور عورتوں کا تعاقب کر کے ان کے لیے فتنے کا باعث بنتے ہیں۔ ان حضرات کا موقف اس لیے غلط ہے کہ فساق کا فتنہ دن کے وقت بہت کم ہوتا ہے، نیز دوسرے لوگوں کی وجہ سے وہ چھیڑ چھاڑ کی جراءت نہیں کر سکیں گے۔ (2) حضرت عمر ؓ کی زوجۂ محترمہ کا نام عاتکہ بنت زید تھا جو حضرت سعید بن زید ؓ کی ہمشیرہ تھیں۔ یہ پابندی کے ساتھ نماز عشاء اور نماز فجر مسجد میں باجماعت ادا کرتی تھیں، حتیٰ کہ جب حضرت عمر ؓ مسجد میں زہر آلود خنجر سے زخمی ہوئے تو ان کی مذکورہ بیوی مسجد ہی میں تھیں۔ اگرچہ حضرت عمر ؓ کو ان کا مسجد میں آنا ناگوار تھا لیکن انہیں منع نہیں کرتے تھے۔ (فتح الباري:493/2)
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ہم سے یوسف بن موسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبید اللہ ا بن عمرنے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبد اللہ بن عمر ؓ نے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ باوجوداس علم کے کہ حضرت عمر ؓ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے۔ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
Narrated Ibn 'Umar (RA): One of the wives of Umar (bin Al-Khattab) used to offer the Fajr and the 'Isha' prayer in congregation in the Mosque. She was asked why she had come out for the prayer as she knew that Umar disliked it, and he has great ghaira (self-respect). She replied, "What prevents him from stopping me from this act?" The other replied, "The statement of Allah's Apostle (ﷺ) : 'Do not stop Allah's women-slave from going to Allah s Mosques' prevents him."