قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الإِجَارَةِ (بَابُ إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: لِيَعْمَلَ لَهُ بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ أَوْ بَعْدَ شَهْرٍ، أَوْ بَعْدَ سَنَةٍ جَازَ، وَهُمَا عَلَى شَرْطِهِمَا الَّذِي اشْتَرَطَاهُ إِذَا جَاءَ الأَجَلُ

2104. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ هَادِيًا خِرِّيتًا وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ

مترجم:

ترجمۃ الباب: کام تین دن یا ایک مہینہ یا ایک سال کے بعد کرنا ہوگا تو جائز ہے اور جب وہ مقررہ وقت آجائے تو دونوں اپنی شرط پر قائم رہیں گے۔ تشریح : اس باب کے لانے سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ اجارہ میں یہ امر ضروری نہیں ہے کہ جس وقت سے اجارہ شروع ہو اسی وقت سے کام کرے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی دیل کے مقرر کردہ نوکر سے تین رات بعد غار ثور پر آنے کا وعدہ لیا تھا۔

2104.

نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر  ؓ نے بنو دیل کے ایک شخص کو، جو راستہ بتانے میں ماہر تھا، بطورگائیڈ (رہن) مقرر کیا، حالانکہ وہ کفارقریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں نے ا پنی اونٹنیاں اس کے حوالے کردین اور اس سے یہ وعدہ لیا کہ وہ تین راتوں کے بعد (تیسری رات کی صبح کو اونٹنیاں لے کر) غارثور پرآئے، چنانچہ وہ (حسب وعدہ) تیسری رات کی صبح دونوں سواریاں لے کر وہاں آگیا۔