قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ} [يوسف: 7])

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

3205. حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ كَذَا، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَقَالَتْ مِثْلَهُ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ حُسَيْنٌ: عَنْ زَائِدَةَ: رَجُلٌ رَقِيقٌ

مترجم:

3205.

حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ  ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو فرمایا: ’’ابو بکر ؓ کو(میری طرف سے)حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ حضرت ابوبکر ؓ اس طرح کے آدمی ہیں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو حضرت عائشہ ؓ نے بھی وہی عذر دہرایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انھیں حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف ؑ (پر فریفتہ ہونے )والی عورتوں کی طرح (بےجا اصرار کرنے والی )ہو۔‘‘ بہر حال حضرت ابو بکر ؓ نے نبی ﷺ کی زندگی میں لوگوں کی امامت کرائی۔ حسین نے زائد سےرجل كذاکی جگہ رجل رقيق’’نرم دل آدمی‘‘ ذکرکیا ہے۔