قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ غَزْوَةِ بَنِي المُصْطَلِقِ، مِنْ خُزَاعَةَ، وَهِيَ غَزْوَةُ المُرَيْسِيعِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَذَلِكَ سَنَةَ سِتٍّ وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: سَنَةَ أَرْبَعٍ وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَانَ حَدِيثُ الإِفْكِ فِي غَزْوَةِ المُرَيْسِيعِ

3907. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

ابن اسحاق نے بیان کیا کہ یہ غزوہ ۶ھ میں ہوا تھا اور موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ ۴ھ میں اور نعمان بن راشد نے زہری سے بیان کیا کہ واقعہ افک غزوہ مریسیع میں پیش آیا تھا ۔

3907.

حضرت ابن محریز سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا، میں نے وہاں حضرت ابوسعید خدری ؓ کو دیکھا تو ان کی خدمت میں بیٹھ گیا اور ان سے عزل کے متعلق سوال کیا۔ حضرت بو سعید خدری ؓ نے فرمایا: ہم غزوہ بنو مصطلق میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے تو ہمیں عرب کی قیدی عورتیں دستیاب ہوئیں، پھر ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی کیونکہ ہمارے لیے مجرد رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ ہم نے چاہا کہ عزل کریں، پھر ہم نے سوچا کہ جب رسول اللہ ﷺ ہم میں موجود ہیں تو پھر ہم آپ سے پوچھے بغیر کیونکر عزل کریں؟ چنانچہ ہم نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تم ایسا نہ بھی کرو تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ جو روح قیامت تک پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔‘‘