قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ التَّطْبِيقِ (بَابُ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْح)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1073.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ

سنن نسائی:

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان 

  (

باب: صبح کی نماز میں قنوت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1073.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابو ربیعہ اور مکہ میں دوسرے کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر (قریش) پر اپنا عذاب سخت فرما اور اس عذاب کو قحط کی صورت میں نازل فرما جو یوسف ؑ کے دور کے قحط کی طرح ہو۔“