قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ رَدِّ السَّلَامِ بِالْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1187.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز میں اسلام کا جواب اشارے سے دینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1187.   حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے۔ کچھ لوگ آئے، آپ کو سلام کہنے لگے۔ میں نے صہیب ؓ سے پوچھا، کیونکہ وہ آپ کے ساتھ تھے، کہ پھر نبی ﷺ کیا کرتے تھے، جب آپ کو سلام کہا جاتا تھا؟ انھوں نے فرمایا: آپ ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے۔