قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتِابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ (بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ)

حکم : صحيح الإسناد ، لكن قوله : " بنا " خطأ ، لأنه صلى الله عليه وسلم كان مقتديا بابن عوف في هذه الق

ترجمۃ الباب:

123.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ بِهِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا

سنن نسائی:

کتاب: وضو کا طریقہ 

  (

باب: موزوں پر مسح کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

123.   حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، چنانچہ جب واپس تشریف لائے تو میں پانی کا لوٹا لے کر آپ کو ملا اور میں نے آپ کے اعضائے وضو پر پانی ڈالا تو آپ نے ہتھیلیاں دھوئیں، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر بازو دھونے لگے، مگر جبہ تنگ تھا، چنانچہ آپ نے دونوں ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے اور انھیں دھویا، پھر موزوں پر مسح کیا، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔