قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى خَمْسًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1256.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا فَعَلْتُ قُلْتُ بِرَأْسِي بَلَى قَالَ وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ فَقُلْتُ نَعَمْ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لَا فَأَخْبَرُوهُ فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص پانچ رکعات پڑ ھ بیٹھے توکیا کرئے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1256.   ابراہیم بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ نے ایک دفعہ پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ انھیں بتایا گیا تو وہ کہنے لگے: میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ میں نے سر کے اشارے سے کہا: کیوں نہیں؟ (آپ نے کیا ہے) وہ کہنے لگے: اے اعور! تو بھی ایسے ہی کہتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر انھوں نے دو سجدے کیے۔ پھر انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے بھی (ایک دفعہ) پانچ رکعات پڑھا دی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرنے لگے۔ انھوں نے آپ سے کہا: کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انھوں نے آپ کو بتایا تو آپ نے اپنے پاؤں سیدھے (قبلہ رخ) کیے اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں۔ جس طرح تم بھولتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔“