قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ (بَابُ الْمَقَامِ الَّذِي يُقْصَرُ بِمِثْلِهِ الصَّلَاةُ)

حکم : منکر

ترجمۃ الباب:

1456.   أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ قَالَ أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ

سنن نسائی:

کتاب: سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: کتنی دیرتک ٹھہرےتوقصرکرسکتا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1456.   حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کرنے گئی حتٰی کہ جب میں مکہ آئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ نماز قصر کرتے رہے، میں پوری پڑ ھتی رہی۔ آپ روزہ چھوڑتے رہے، میں رکھتی رہی۔ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تونے ٹھیک کیا۔“ آپ نے مجھ  پر اس بات کا عیب نہیں لگایا۔