قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الِاسْتِمَاعِ إِلَى الْغِنَاءِ وَضَرْبُ الدُّفِّ يَوْمَ الْعِيدِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1597.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ

سنن نسائی:

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عیدکے دن دف بجانے اور( پاکیزہ )نغمے سننے کی اجازت ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1597.   حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ (والد محترم) حضرت ابوبکرصدیق ؓ میرے ہاں تشریف لائے تو میرے پاس دو بچیاں دف بجا رہی تھیں اور (جنگی) نغمے گا رہی تھیں جبکہ رسول اللہ ﷺ کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ (حضرت ابوبکر نے انھیں جھڑکا تو) آپ ﷺ نے اپنے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا اورفرمایا: ”ابوبکر! انھیں رہنے دو۔ یہ عید کے دن ہیں۔“ یہ وہ دن تھے جن میں حاجی منٰی میں ہوتے ہیں۔ (یعنی ایام تشریق) اور اللہ کے رسول ﷺ ان دنوں مدینہ منورہ میں تھے۔