قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابٌ كَيْفَ الْقِرَاءَةُ بِاللَّيْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1662.   أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ

سنن نسائی:

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: رات کی نماز میں قراءت کیسے کی جائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1662.   حضرت عبداللہ بن ابی قیس سے منقول ہے، فرماتے ہیں: میں نے ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے پوچھا کہ رات کی نفل نماز میں رسول اللہ ﷺ کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ بلند آواز سے یا آہستہ؟ حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ آپ دونوں طرح قراءت فرمایا کرتے تھے، کبھی بلند آواز سے کبھی آہستہ۔