قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْوِتْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1728.   أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً أَوْتَرَ بِهَا فَقَرَأَ فِيهَا بِمِائَةِ آيَةٍ مِنْ النِّسَاءِ ثُمَّ قَالَ مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَيْهِ وَأَنَا أَقْرَأُ بِمَا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن نسائی:

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: وتر کی نماز میں قراءت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1728.   حضرت ابومجلز سے منقول ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ (سفر کے دورن میں) مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو انھوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت وتر پڑھا اور اس میں سورۂ نسا کی سو آیات پڑھیں، پھر فرمایا: میں نے اس بات میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کی کہ وہاں پاؤں رکھوں جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنے قدم مبارک رکھے اور وہی کچھ پڑھوں جو رسول اللہ ﷺ نے پڑھا۔