قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ الْفِطْرَةِ (بَابُ الرُّخْصَةُ فِي تَرْكِ ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

18.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَدَعَانِي وَكُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ

سنن نسائی:

کتاب: امور فطرت کا بیان 

  (

باب: دور نہ جانے کی رخصت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

18.   حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، انھوں نے کہا: میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس پہنچے تو آپ نے کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔ (آپ کے پیشاب کرنے سے پہلے) میں ایک طرف ہٹا تو آپ نے مجھے بلایا۔ میں آپ کی ایڑیوں کے پاس (دوسری طرف منہ کرکے) کھڑا رہا حتیٰ کہ آپ فارغ ہو گئے۔ پھر آپ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔